مقام عید غدیر معصومین ؑکی نظرمیں :

پیغمبر اسلامؐ اورائمہ معصومین علیہم السلام کی نظر میں عید غدیر کی اہمیت اور اس دن کے آداب اور فضیلت ،چالیس حدیثوں کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے۔آگاہ ہوجاؤعلیؑ کی ولایت میری ولایت ہےاورمیری ولایت خداکی ولایت ہے

1:عیدخلافت

زید بن محمد کہتے ہیں میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوااور سوال کیا مولا کیامسلمانوں کےدرمیان عید فطر اور عیدقربان اور عیدجمعہ کےعلاوہ بھی کوئی عید ہے؟

آپ نےفرمایا:ہاں وہ دن ہےجس دن رسول خدانےامیرالمومنینؑ کوخلافت اورولایت کےلئےمقررفرمایا.(مصباح المجتہدص 726)

:2امت کی عظیم عید

رسول خدا نےفرمایا:میری امت کی عیدوں میں سب سےعظیم عید عید غدیرہے اور یہ وہ دن ہےجس دن خدای تعالی نےمجھےحکم دیاکہ میں اس دن اپنےبھائی علی بن ابیطالب کو پیشوااوررہبرکےعنوان سے اپنی امت میں معین کروں تاکہ ہمارے بعدلوگ علی کے ذریعہ ہدایت پاسکیں اوریہ وہ دن ہےکہ جس دن خدانےمیری امت کےلئےدین کو کامل کیااورنعمتیں تمام کیں اوراسلام کوبہ عنوان دین ان کےلئےپسندفرمایا.(امالی شیخ صدوق ص225 ح8)

:3 خداکی سب سےبڑی عید

امام صادقؑ نےفرمایا:غدیرخم کا دن خداکی سب سےبڑی عید کادن ہےخدانےکسی پیغمبر کو مبعوث نہیں کیامگریہ کہ انھوں نےاس دن کوعیدقراردیااوراس دن کی عظمت کو پہچانا اورآسمان میں اس دن کوروزعہدوپیمان کےنام سے شہرت حاصل ہےاورزمین میں اس دن کو مضبوط عہد و پیمان کےدن کےنام سےیاد کیا جاتاہے۔

غدیر کادن میری امت کی سب سے با عظمت عید کادن ہےاوریہ وہ دن ہےجس دن خدائےمتعال نےمجھےحکم دیاکہ میں اپنےبھائی علی بن ابی طالب کواپنی امت میں ایک حاکم اور رہبرکےعنوان سے معین کروں تاکہ میرےبعدلوگ ان کےذریعہ ہدایت پاسکیں اوریہ وہ دن ہےکہ جس دن خدانےدین کوکامل کیااوراپنی نعمتوں کومیری امت پرتمام کردیا اوراسلام کوان کےلئے دین کےعنوان سےپسند فرمایا. (وسائل شیعہ ج5 ص222 ح5)

:4عیدولایت

امام صادق ؑسےسوال کیا گیا کیامومنین کےلئےعیدفطر،عیدقربان اورعیدجمعہ کےعلاوہ بھی کوئی عیدہے؟آپ نے فرمایا:ہاں،مومنین کےلئےان تمام عیدوں سےبھی بڑی عیدہےاوریہ وہ دن ہےجس دن امیرالمومنین کوغدیرخم میں بلندکیاگیااوررسول خدانےولایت کےمسئلےکوتمام عورتوں اورمردوں پرفرض کیا۔(وسائل شیعہ ج5 ص325 ح7)

:5 روز تجدید بیعت

عماربن حریز کہتےہیں،میں اٹھارہ ذی الحجہ کوامام صادق ؑکی خدمت میں حاضرہوا تو آپ روزےسےتھے،

امام نے مجھ سےفرمایا:آج کا دن بہت عظیم دن ہے،اسے خدانےعظمت بخشی ہے،اس دن مومنین کےدین کوکامل کیا،اوراپنی نعمتیں ان پرتمام کیں،اورسابقہ عہدوپیمان کی تجدیدکی ہے۔(مصباح المجتہد ص737)

:6 آسمانی عید

امام رضا ؑ فرماتےہیں کہ ہمارےبابانےاپنےباباامام صادق ؑسےنقل کیاہےکہ آپ نےفرمایا:عیدکادن آسمان میں زمین سےزیادہ مشہورہےـ(مصباح المجتہد ص737)

:7 بےنظیر عید

امام علیؑ نےفرمایا:آج غدیرکا دن بہت عظیم الشان دن ہےآج کےدن کووسعت حاصل ہے،رتبہ بلندہوا،خداکی دلیلیں روشن ہوئیں،واضح طورپہ پاکیزہ مقام سےخطاب کیاگیااورآج کادن دین کے کامل ہونےاورعہدوپیمان کادن ہےـ (بحارالانوار ج 97 ص116)

:8غدیر کی روشنی

امام صادق ؑنےفرمایا:غدیرخم کادن عیدفطر،عیدقربان اورجمعہ کےدنوں میں اس طرح روشن ہےجیسےچاندستاروں کےدرمیانـ

(مصباح المجتہد ص۷۳۸)

:9با برکت عید

امام صادق ؑنے فرمایا:خدا کی قسم اگر لوگ غدیرخم کےدن کوحقیقی طور پرپہچان جاتے توملائکہ دن میں دس مرتبہ ان سےمصافحہ کرتےاورجنہوں نےاس دن کی معرفت حاصل کرلی ان پراس قدرخدا کی عنایتیں ہیں کہ ان کوشمار نہیں کر سکتےـ

(اقبال سیدبن طاؤس ص466)

:10خداکی چار بڑی عیدوں میں سے ایک

امام صادق ؑنےفرمایا:جب قیامت برپا ہوگی یہ چاردن خداکی طرف اس قدر تیزی سےجائیں گےجیسے دلہن اپنے شوہر کے گھرجاتی ہےـعیدفطرکادن،عیدقربان کادن،عیدجمعہ کادن،عیدغدیرخم کادن۔(اقبال سیدبن طاؤس ص466)

:11پیغام ولایت کادن

رسول خداؐنےغدیرکےدن فرمایا:اےلوگو!حاضرین اورغائبین تک یہ پیغام پہونچادوجومجھ پرایمان لایااورمیری تصدیق کی اس کوعلی ؑکی ولایت کی تلقین کرتا ہوں آگاہ ہوجاؤعلیؑ کی ولایت میری ولایت ہےاورمیری ولایت خداکی ولایت ہےیہ پیغام میرے اس خدا کی طرف سےہےجس نےمجھے حکم دیاہےکہ میں تم تک یہ پیغام پہونچاؤںـ

ح۳۵،۱۴۱،۳۷بحارالانوار

:12دعوت کادن

امام صادقؑ نےفرمایا:عیدغدیروہ دن ہےجس دن رسول خدا ؐنےعلی ؑکوحاکم اوررہبر کےعنوان سےلوگوں کے درمیان بلندفرمایا،ان کےفضائل کو آشکار کیا،اوراپنےجانشین کاتعرف کرایا،اورآخرمیں خدای تعالی کاشکربجا لانے کےلئےشکرکاروزہ رکھااوریہ دن روزہ رکھنے،عبادت کرنے کھاناکھلانے،اوردینی بھائیوں سےملاقات،اورخدای مہربان کی خشنودی حاصل کرنے ،شیطان کی ناک رگڑنےکادن ہےـ(وسائل شیعہ ج12 ح327)

:13تحفے دینےکادن

امام علی ؑنے (غدیرکےدن اپنےخطبے)میں فرمایا:اس دن جب مومنین سے ملاقات کروسلام کےساتھ مصافحہ کرو،اورایک دوسرےکو تحفہ پیش کرو اورحاضرین اس قول کو غائبین تک پہونچائیں مالدار مفلسین کےپاس جائیں،قوی ضعفاء کی مدد کو جائیں ،رسول خدا نےمجھے ان باتوں کاحکم دیا ہے۔(وسائل شیعہ ج۷ ص327)

:14 کفالت کادن

امام علی ؑنے فرمایا:اس کاحال کیاہوگاجوغدیرکےدن لاتعداد منومنین اورمومنات کی کفالت کاذمہ دارہوـجب کہ میں خداکی طرف سےاس کے کفراورفقرسےامان کاضامن ہوںـ(وسائل شیعہ ج۷ ص 327)

:15شکراورخوشی کادن

امام صادقؑ نےفرمایا:عیدغدیرعبادت کرنے،نمازپڑھنے،خداکاشکربجالانے،ذکرخداکرنے،اورخوشی منانےکادن ہے ـ ہماری ولایت اورہم اہلبیت کےسبب خداتم پراحسان فرماتاہے،اورمیں اس بات کوپسند کرتاہوں کہ تم اس دن روزہ رکھو۔

(وسائل شیعہ ج13 ص328)

:16نیکی کرنے کادن

امام صادقؑ سے روایت ہےکہ آپ نےفرمایا:عیدغدیرکےدن بامعرفت مومن بھائی کو ایک روپیہ دیناہزارروپیہ عطاکرنےکےبرابرہے،لہذااس دن اپنے بھائیوں پرانفاق کرواورہرمومن مرد وعورت کو شادکرو۔(مصباح المجتہد ص737)

:17شادہونے کادن

امام صادق ؑنےفرمایا:عیدغدیرکادن مسروراورخوش ہونے کادن ہے،اورنعمت خداپر شکرانے کاروزہ رکھنےکادن ہےـ

(وسائل شیعہ ج10 ص326 ح7)

:18تبریک وتہنیت پیش کرنےکادن

امام علیؑ نےفرمایا:عیدغدیرکےدن محفل کےبعداپنےگھروں کو واپس جاؤ،خداتم پررحمت نازل فرمائے،اپنےاہل وعیال کوشادکرو،اوراپنےبھائیوں کےساتھ نیکی کرو،خدانےیہ جونعمت تم کوعطا کی ہےاس کاشکر اداکرو،متحدہوجاؤتاکہ خداتم کومتحدرکھے،نیک رفتاری سےپیش آؤتاکہ خدا تمہارے دوستوں کی دوستی کومضبوط بنائے،ایک دوسرےکواس طرح مبارک بادپیش کروجس طرح خدانےآج کےدن دوسری تمام عیدوں سے کئ برابر اجرعطاکرکے مبارک باد پیش کی ہےکہ اس طرح کا ثواب عیدغدیر کےدن کےعلاوہ کسی اوردن کوحاصل نہیں ہےـ(بحارالانوار ج 7 ص37)

:19درود اوربرءات کادن

حسین بن راشد کہتےہیں کہ مینے امام صادق ؑسےسوال کیا،کیامسلمانوں کے یہاں ان دو عیدوں کےعلاوہ بھی کوئی عید ہے؟

آپ نےفرمایا:ہاں اس سے بڑی اور بہترین،میں نےسوال کیا وہ کون سی عید ہے؟

آپ نےفرمایا:جس دن امیرالمومنینؑ لوگوں کےحاکم اوررہنما مقرر ہوئے،

میں نےسوال کیامولامیں آپ پرقربان جاؤں اس دن ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

آپ نےفرمایا:روزہ رکھو، محمد وال محمد ؐپر درود بھیجو،ان پر ظلم کرنے والوں سےبیزاری کااظہار کرو،اس لئے کہ گزشتہ انبیا اپنےچاہنےوالوں کو حکم دیتےتھےکہ جس دن ان کا جانشین معین ہو عید منائیں،(مصباح المجتہد680)

:20عید اوصیاء کادن

امام صادق ؑنے فرمایا:عید غدیر کے دن روزے،نماز اورمحمد وال محمدؐپہ درودکے ذریعہ خدا کو یاد کرو،اس لئے کہ رسول خداؐنےامیرالمومنین ؑسےفرمایاکہ آج کےدن عید منائیں جس طرح کہ پیمبروں نے اپنے جانشین سے فرمایا تھاکہ اس دن عید منائیں اوروہ ایسا کرتے تھےـ(وسائل شیعہ ج7 ص327 ح1)

:21رزق میں وسعت کادن

امام صادق ؑنےفرمایا:عید غدیرکےدن نیک کا بجالانااٹھارہ ماہ نیک اعمال بجالا نےکےبرابرہےاوربہترہےاس دن کثرت سےذکرخدااورمحمدوال محمدؐپردرودبھیجاجائےاور اپنےاہل وعیال کوشاد رکھاجائےـ(وسائل شیعہ 7: 325، ح 6)

:22 رہبر کےدیدار کادن

امام ہادی ؑنےابواسحاق سےفرمایا:غدیرکےدن رسول خدانےاپنےبھائی علی کوبلندفرمایا،اپنےبعدہونےوالےجانشین کالوگوں کےدرمیان تعرف کرایا،ابواسحاق کہتےہیں:میری جان آپ پرقرمان آپ نےسچ فرمایا،اسی سبب مولا آپ کی زیارت کےلئےآپ کےپاس آیاہوں،اورمیں گواہی دیتاہوں کہ آپ لوگوں پرخداکی حجت ہیںـ (وسائل شیعہ 7: 324، ح 3.)

:23 تکبیرکادن

امام رضا ؑنےفرمایا:جومومن غدیرکےدن کسی مومن بھائی کی زیارت کو جاتاہےخداسترنوراس کی قبرپہ نازل کرتاہے،اورہر روزسترہزارملائیکہ اس کی زیارت کو آتے ہیں اوراس کوجنت کی بشارت دیتےہیںـ (اقبال الاعمال778)

:24نیکیوں کا دن

امام صادق ؑنےفرمایا:تم کوچاہئےکہ دوسروں کےساتھ نیکی کرو،روزہرکھو،نمازپڑھو،صلئہ رحم کرو،اوردینی بھائیوں کی زیارت کر کےخداکاتقرب حاصل کرواس لئےکہ گزشتہ پیغمبروں کی یہ سنت تھی کہ وہ اپنےجانشین کاانتخاب اسی طرح کرتےتھےاوران کو اس بات کی وصیت کرتےتھےـ

(مصباح المجتہد736)

:25مسجدغدیر میں نماز کادن

امام صادق ؑنےفرمایا:مسجدغدیرمیں نمازبجالانامستحب ہےاس لئےکہ رسول خدانےاسی مقام پرامیرالمومنین کاتعرف کرایااوراپناجانشین بنایا،یہ وہ مقام ہےجہاں پرخدی تعالی نےحق کوآشکار کیا۔( وسائل الشیعه 3: 549)

:26نمازغدیرکادن

امام صادق ؑنےفرمایا:جوچاہتاہےغدیرےدن کسی بھی وقت دورکعت نمازاداکرےاس کے لئےبہترہےکہ ظہرکےنزدیک اداکرےاس لئےکہ یہ وہ وقت ہےجس وقت امیر المومنین غدیرخم میں امامت کےلئے منصوب کئےگئے(جوبھی یہ عمل انجام دے)اس شخص کےمانند ہےگیاغدیرخم میں رسول خدا کے ساتھ موجودتھاـ(وسائل الشیعه 5: 225، ح 2.)

:27غدیرکےروزےکادن

امام صادق ؑنےفرمایا:عیدغدیرکےدن روزہ رکھناتمام عمرروزہ رکھنےکےبرابرہےـیعنی اگرہمیشہ باحیات رہےاورروزہ رکھےاس کاثواب فقط غدیر کےدن ایک روزہ کےبرابرہےـ(وسائل الشیعه 7: 324، ح 4.)

:28مبارک باد دینےاورمسکرانےکادن

ام رضاؑنےفرمایا:عیدغدیرکادن مبارک بادپیش کرنے کادن ہے،اس دن جب ایک مومن دوسرےمومن سےملاقات کرےاس طرح مبارک بادپیش کرے:اس خدا کی حمدوثناکہ جس نےہمیں امیرالمومنینؑ کی ولایت اورجانشین پیغمبرؐ ہونے کی توفیق عطافرمائیـ(اقبال الاعمال ص468)

:29پیغمبراعظمؐ اورعلیؑ کی ولایت کادن

ابوسعیدکہتےہیں:غدیر کےدن رسول خدانےحکم فرمایاکہ منادی ندادےکہ نمازکےلئےجمع ہوجاؤ بعد میں علیؑ کےہاتھ کواپنےہاتھ میں لیااوربلند کرنےکےبعدفرمایا:اےخداجس کامیں مولاہوں پس اس کے یہ علی ؑبھی مولاہیں اےخداتواس کودوست رکھ جوعلیؑ کودوست رکھےاوراس کودشمن رکھ جوعلیؑ کودشمن رکھےـ(بحارالانوار 37: 112، ح 4.)

:30نمونہء حیات پیغمبر کادن

رسول خداؐنےفرمایا:جویہ چاہتاہےکہ اس کی موت اورحیات مجھ جیسی ہواوراس جنت میں ہمیشہ رہےجس کامیرےخدانےمجھ سےوعدہ کیا ہے،علیؑ کی ولایت کوانتخاب کرے،اس لئےکہ علیؑ ہرگزتم کو راہ ہدیت سےنکال کےراہ گمراہی کی طرف نہیں لےجاسکتےـ(الغدیر 10: 278.)

:31پیغمبرؐاورعلی ؑکی امامت کادن

جابربن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نےرسول خداسےسناہےکہ علی بن ابیطالبؑ سےفرمایا:اےعلیؑ آپ میرےبعدمیرے،بھائی،وصی،وارث اورمیرےجانشین ہیں میری امت میں،میری زندگی میں بھی اورمیری وفات کےبعدبھی،تمہارادوست میرادوست اورتمہارادشمن میرادشمن ہےـ(امالی صدوق: 124، ح 5.)

:32اسلام کاستون

امام باقرؑ نےفرمایا:اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پرقائم ہے،نماز،زکوت،روزہ،حج اورولایت،اوران پانچ میں سےجس کے لئےسب سےزیادہ تاکیدہوئی ہےوہ ولایت ہےـ(کافی 2، 21، ح 8.)

:33دائمی ولایت کادن

امام کاظم ؑنےفرمایا:علیؑ کی ولایت تمام پیمبروں کی کتابوں میں ثبت ہے اورکسی بھی پیمبر کو اس وقت تک پیمبری عطانہیں کی گئی جب تک کہ محمدؐ کی نبوت اورعلیؑ کی امامت کااقرار نہ کر لیاـ (سفینة البحار 2: 691.)

:34ولایت اورتوحید کادن

رسول خداؐنےفرمایا:علی بن ابیطالبؑ کی ولایت خداکی ولایت ہےاور علیؑ کودوست رکھناخدا کی عبادت ہےعلیؑ کی پیروی کرناواجبات الہی میں سےہے،علیؑ کادوست خداکادوست ہےاورعلیؑ کادشمن خدا کادشمن ہے،علیؑ سےجنگ کرناخداسےجنگ کرناہے،علیؑ سےصلح کرناخداسےصلح کرناہےـ (امالی شیخ صدوق32)

:35شیطان کےفریادکرنےکادن

امام باقر ؑنےاپنےوالدبزرگوارامام صادقؑ سےنقل فرماتےہیں کہ آپ نےفرمایا:خداکےدشمن نےچارمرتبہ فریادبلند کی:جس دن لعنت کا مستحق قرارپایا،جس دن جنت سےنکالا گیازمین پرآیا،جس دن رسول خدا کورسالت پرمبعوث کیاگیا،جس دن غدیر خم میں علیؑ کی ولاایت کااعلان کیاگیاـ (قرب الاسناد ص10)

:36شیطان کےمایوس ہونےکادن

رسول خدا ؐفرماتےہیں کہ خدای تعالی نےفرمایا:علی بن ابیطالبؑ کی ولایت میراقلہ ہےپس جواس لےمیں داخل ہوگیا وہ میری آگ سےبچ گیاـ (جامع الاخبار ج7 ص52)

:37جانشینی پیغمبر کادن

رسول خداؐنےفرمایا:اےعلی ؑمیں علم کاشہرہوں اورآپ اس کادروازہ ہیں کئی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتا مگر یہ دروازےآئے،آپ میری امت کےامام ہیں،اور میری امت پر میرےبعد میرےخلیفہ ہیں جس نےآپ کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوا اورجس نےآپ کی نافرمانی کی وہ ناکام ہوا،آپ کو دوست رکھنےوالا فاءدے میں ہےاورآپ سے عداوت رکھنےوالا خسارےمیں ہےـ (جامع الاخبار: 52، ح 9.)

:38اسلام ولایت کےسائےمیں

امام صادق ؑنےفرمایا:اسلام کی بنیادتین چیزوں پہ ہے:نماز،روزہ،اورولایت،ان میں کوئی بھی بغیرایک دوسرےکےثابت نہیں رہ سکتےـ

کافی: 2، ص 18.

:39دس ہزارشاہدین غدیر

امام صادق ؑنےفرمایا:اےحفص وہ افرادخوش بخت ہیں ان سےجس سےعلی بن ابیطالب ؑدوچار ہوئے،

اس لئے کہ آپ کے پاس چالیس ہزارگواہ غدیر کے دن ہوتے ہوئےبھی غاصبین سےاپناحق نہ لےسکےجب کہ ایک عام شخص دو گواہوں کی گواہی پر اپے حق کوحاصل کرلیتاہےـ (بحار الانوار: 37، 140.)

:40علیؑ مفسرقرآن

رسول خداؐنےغدیرکےدن فرمایا:علیؑ مفسرقرآن اورخدا کی طرف سےفیصلہ کرنےوالےہیں،آگاہ ہو جاؤزیدہ سےزیادہ حلال خدا اورحرام خدایہ ہےکہ میں اس کا تعرف کراؤں،اوراس کےانجام دینے اوراس سےدور رہنےکاحکم دوں اوراس کوشمار کروں،پس مجھےحکم دیاگیاہے کہ میں تم سےعہدوپیمان لوں ان کا جوعلی امیرالمومنین ؑاوران کے بعدہونے والےجانشین کےمتعلق خدا کی طرف سےلے کرآیا ہوں اسے قبول کروـ (وسایل الشیعه: 18، 142، ح 43.)