امام حسینؑ کا مقام ۔ ۔۔ بقلم خانم طیّبہ بخاری

اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا جس نے حق کربلا میں ادا کردیا جس نے اُمت کی خاطر فِدا کر دیا گھر کا گھر سب سپردِ خدا کر دیا کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام اس حسینؑ ابن حیدرؓپہ لاکھوں سلام ارشادباری تعالیٰ ہے ۔’’اور(وہ وقت یادکرو) جب ابراہیمؑ کوان کے رب نے کئی

 

 بقلم طیبہ بخاری

اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا جس نے حق کربلا میں ادا کردیا جس نے اُمت کی خاطر فِدا کر دیا گھر کا گھر سب سپردِ خدا کر دیا کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام اس حسینؑ ابن حیدرؓپہ لاکھوں سلام ارشادباری تعالیٰ ہے ۔’’اور(وہ وقت یادکرو) جب ابراہیمؑ کوان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایاتوانہوں نے وہ پوری کر دیں (اس پر) اللہ نے فرمایا’’میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنائوں گا انہوں نے عرض کیا(کیا)میری اولادمیں سے بھی ؟ ا ر شا د ہو ا ( ہاں مگر ) میر ا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ (البقرہ ۴۲۱) اللہ نے اس آیت مبارکہ میں حضرت سیدنا ابراہیم ؑ کومختلف آزمائشوں میں مبتلا کرنے اوران سے کامیابی سے گزرنے ا و ر پھراس پر انعام کاتذکرہ فرمایاہے جولوگ آزمائش سے بھاگ جاتے ہیں وہ پست رہتے ہیں اورجولوگ آزمائش کو سینے سے لگاتے ہیں وہ عظیم ہوجاتے ہیں آزمائش ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی آزمائش میں ڈالابھی اسی کوجاتاہے جس سے اللہ کو پیار ہوتاہے وہ اپنے محبوب بندوں کوآزمائش میں ڈالتاہے اللہ نے حضرت ابراہیمؑ سے پیارکیااور انہیں آزمائش میں ڈالا،وہ ہرآزمائش میں سُرخرو رہے سلسلہ آزمائش جوحضرت ابراہیمؑ سے شرو ع ہوا تھا امام حسینؑ ؓ پرآکرختم ہوا۔ جنت کی زینت حسنؑ  و حسینؑ مصطفی ؐخداکی چاہت اورحسینؑ مصطفیؐ کی چاہت ہیں۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’حسنؑ اورحسینؑ عرش کے دوستون ہیں لیکن وہ لٹکے ہوئے نہیں‘‘ اورآپ ؐنے ارشادفرمایاجب اہل جنت جنت میں مقیم ہوجائیں گے توجنت عرض کریگی اے پروردگارتونے مجھے اپنے ستونوں میں سے دوستونوں سے مزین کرنے کاوعدہ فرمایاتھااللہ فرمائے گاکیامیں نے تجھے حسنؑ اورحسینؑ کی موجودگی کے ذریعے مزین نہیں کر دیا (یہی تومیرے دوستون ہیں)۔ (طبرانی ،المعجم الاوسط) ایک اورحدیث میں آتا ہے حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐنے فرمایا ’’ایک مرتبہ جنت نے دوزخ پرفخرکیا اور کہا میں تم سے بہترہوںدوزخ نے کہامیں تم سے بہترہوں جنت نے دوزخ سے پوچھا کس وجہ سے ؟دوزخ نے کہا اس لیے کہ میرے اندر بڑے بڑے جابرحکمران فرعون اور نمرود ہیں اس پرجنت خاموش ہوگئی اللہ نے جنت کی طرف وحی کی ا و ر فر ما یا تو عاجز ولاجواب نہ ہو میں تیرے دو ستونوں کو حسنؑ اورحسینؑ کے ذریعے مزین کروں گاپس جنت خوش اورمسرورہو گئی۔ جنت حسنؑ اورحسینؑ کے نام پرفخرکرتی ہے اوردوزخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اے دوزخ حسنؑ اور حسینؑ میرے پا س ہیں اس لئے میں بہترہوں۔(طبرانی المعجم الاوسط) حسنؑ ینؑ کریمینؓ کامقام محبوبیت حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم حضورنبی کریم ؐکے ساتھ (سفرمیں) نکلے ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ آپؐ نے حسنؑ وحسینؑ ؓکی آوازسنی دونوں رورہے تھے اوردونوں اپنی والدہ ماجدہ کے پاس تھے آپؐ ان کے پاس تیزی سے پہنچے اور پوچھا’’میرے بیٹوں کو کیاہواکیوںرورہے ہیں؟ ‘ ‘ حضرت فاطمہؓنے بتایاانہیں سخت پیاس لگی ہے حضورؐپانی لینے کیلئے مشکیزے کی طرف بڑھے اُن دنوں پانی کی شدید قلت تھی، آپؐ نے لوگوں کو آ و ا ز دی’’ کیاکسی کے پا س پانی ہے ؟‘‘ہر ایک نے کجائوں سے لٹکتے ہوئے مشکیزوں میں پانی دیکھا مگر ان کوقطرہ تک نہ ملاآپؐ نے سیدہ فاطمہ ؓسے فرمایا ’’ایک بچہ مجھے دیں‘‘ ۔ آپؐ نے بچے کواپنے سینہ مبارک سے لگا یا مگروہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہاتھاآپؐ نے اسکے منہ میں اپنی زبان مبارک ڈال دی وہ اُسے چوسنے لگاحتیٰ کہ سیرابی کی وجہ سے سکون میں آگیا د و سر ا بچہ بھی اسی طرح(مسلسل رو رہا تھا) حضورؐنے فرمایادوسرابھی مجھے دیدیں تو فاطمۃ الزہراؓ نے دوسرے کوبھی حضورؐکے حوالے کردیا۔ حضورؐنے اس سے بھی وہی معاملہ کیا(یعنی زبان مبارک اس کے منہ میں ڈالی)سووہ دونوں ایسے خاموش ہوئے کہ میں نے دوبارہ ان کے رونے کی آوازنہ سنی۔حضرت ابوہریرہؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ حضورؐہمارے پاس اس حالت میں تشریف لائے کہ ایک کاندھے پر امام حسنؑ اورایک کاندھے پر امام حسینؑ ؓ تھے آپؐ کبھی امام حسنؑ ؓ کو چومتے اورکبھی امام حسینؑ کوایک شخص نے عرض کیا یارسولؐ اللہ آپؐ دونوںکوبہت محبوب رکھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایاجس نے ان دونوں کومحبوب ر کھا بیشک اس نے مجھے محبوب رکھااور جس نے ان دونوں سے بغض رکھااس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھا۔ (البدایہ والنہایہ) حضرت سعدبن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں آقاؐکی خدمت اقدس میں حاضرہوااس وقت امام حسنؑ وامام حسینؑ آپؐ کی پشت مبارک پرکھیل رہے تھے ۔میں نے عرض کیایارسول ؐاللہ کیاآپؐ ان دونوںسے بہت محبت ر کھتے ہیں فرمایاکیوں نہ محبت رکھوں جبکہ یہ دونوں دنیامیں میرے پھول ہیں۔(کنزالعمال) حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات کسی کام کے سلسلے میں آقاؐکی خدمت اقدس میں حاضرہوا، آپ ؐکے پاس کوئی چیزکپڑے میں لپٹی ہوئی تھی میں نے عرض کیااے اللہ کے نبی ؐیہ کیاہے ؟ آپؐ نے کپڑااٹھایا وہ حضرت امام حسنؑ وامام حسینؑ تھے فرمایا ’’یہ دونوں میرے اورمیری بیٹی کے بیٹے ہیں ، اے اللہ !میں ان کومحبوب رکھتاہوں توبھی ان کومحبوب رکھ اورجوشخص ان کومحبوب رکھے تواسکوبھی محبوب رکھ‘‘۔ (کنزالعمال) سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ سے سنا، آپ ؐ نے فرمایا ’’ حسنؑ و حسینؑ دونوں میرے بیٹے ہیں جس نے ان کومحبوب رکھااس نے مجھے محبوب رکھا اورجس نے مجھے محبوب رکھااس نے اللہ کو محبوب رکھا اورجس نے اللہ کومحبوب رکھااللہ نے اسے جنت میں داخل کیااور جس نے ان دونوں سے بغض رکھااس نے مجھ سے بغض رکھااور جس نے مجھ سے بغض رکھااس نے اللہ سے بغض رکھااورجس نے اللہ سے بغض رکھا اللہ نے اسکو دوزخ میں داخل کیا‘‘۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میںنبی کریم ؐکی خدمت میں حاضرہواآپؐ نے امام حسنؑ و امام حسینؑ کواپنی پشت پربٹھایاہوا تھااورآپؐ دونوں ہاتھوں دونوں گھٹنوں پر چل رہے تھے تو میں نے کہا(اے شہزادو) تمہاری سواری کتنی اچھی ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا سوار بھی بہت اچھے ہیں ۔(کنزالعمال، البدایہ والنہایہ) حضرت حذیفہ الیمان ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک دن حضورؐ کوبہت مسرور دیکھاتوعرض کیا۔یارسولؐ اللہ! آج ہم آپؐ کوبہت مسرور و خوش دیکھتے ہیں ۔رحمت دو عالم نورِمجسم شفیع معظم ؐنے فرمایا ’’میں کیوں نہ خوش ہوں جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے ہیں اورانہوں نے مجھے بشارت دی ہے کہ بلاشبہ حسنؑ و حسینؑ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اوران کاباپ ان سے بھی افضل ہے ۔ (کنزالعمال) میرے ماں باپ حسنؑ ینؑ پرقربان حضرت زربن حیش ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک روزدیکھاسجدے میں شہزادے آپ ؐکے کندھوں پرچڑھ جاتے ہیں۔پھرآپؐ کی پشت مبارک سے اتر آتے ہیں ۔۔۔۔ساری نمازمیں یہی کیفیت رہی ۔۔۔کچھ لوگ جنہیں معلوم نہ تھاکہ شہزادے حضورؐ کے کندھوں پر روزانہ چڑھتے ہیں انہوں نے اشاروں سے شہزادوں کو روکنا چاہا حضورؐنے فرمایا ’’میری نماز کے دوران میرے سجدوں میں حسنؑ وحسینؑ کندھوں پرچڑھیں یامیری گودمیں بیٹھیں انہیں کوئی منع نہ کرے۔‘‘ (بیہقی ،السنن الکبریٰ ) اللہ پاک نبی رحمت ؐ اور حسنینؑ کریمین ؑکے صدقے ہمارے گناہ معاف فرمائے ۔آمین ٭…٭…٭

http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2014-11-04/11067

Add new comment